کراچی میں تیسری وومن کانفرنس کا اختتام ہوگیا

0



آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں تیسری وومن کانفرنس کا اختتام ”خواتین عالمی مشاعرہ“ پر کیاگیا۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری تیسری وومن کانفرنس کے آخری روز بختاور مظہر نے صباحت زہرا کی تحریر ”چپہ بھر آسمان“ پر ڈرامائی پرفارمنس دی جبکہ معروف اداکار و گلوکارہ کیف غزنوی کی لائیو میوزک پرفارمنس پر شائقین جھومتے رہے ،تیسری وومن کانفرنس کا اختتام ”خواتین عالمی مشاعرہ“ پر کیاگیا۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری دو روزہ تیسری وومن کانفرنس کے دوسرے روز کا آغاز سیشن “ورکنگ وومن: وومن لیبر اینڈ اکنامک ایمپاورمنٹ ایشو” سے ہوا، جس میں سیکریٹری لیبر لئیق احمد خان، فرحت پروین، بشریٰ آرائیں ،زہرا اکبر خان اور سبھاگھی بھیل شریک ہوئیں جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر کرامت علی نے انجام دیے، سیکریٹری لیبر لیئق احمد خان نے کہا کہ گھر میں ایک خاتون جتنا کام کرتی ہے مرد اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا، ہمیں خواتین کو برابری کی سطح پر لانا ہے۔

فرحت پروین نے کہاکہ جب آپ بوڑھے ہوجائیں اور کام نہ کرپائیں تو اس وقت آپ کو ایک سماجی تحفظ حاصل ہو، علاج اور آپ کے بچوں کی تعلیم ہو، خواتین کی بات کی جائے تو خواتین کا تشدد سے بھی تحفظ ہو اور ہراساں کئے جانے سے بھی تحفظ ضروری ہے۔

سبھاگھی بھیل نے کہاکہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں، معاشرے میں عورت کا پڑھا لکھا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل پاسکے ۔

وومن کانفرنس کے آخری روز پر ڈیجیٹل میڈیا اکٹوسٹ نشست کا اہتمام کیاگیا جس میں محمد معیز، صحافی ماہیم مہر، قرت مرزا، ہدیٰ بھرگری نے اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض آفرین سحر نے انجام دیے۔

سیشن میں محمد معیز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی طلاقیں، شادیاں اور نکاح فیس بک پر ہوجاتے ہیں،پاکستان کے لوگ اچھے، اسمارٹ اور بے وقوف بھی ہیں۔

صحافی ماہم مہر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سماء ڈجیٹل کو 18 سے 25 سال کی عمر تک کے لوگ دیکھتے تھے، ایک مذاق تھا کہ اگر لائیکس چاہیے ہیں تو ریپ کا لفظ کانٹینٹ میں ڈال دو، مدارس میں جاکر طلبہ کو ٹوئٹر استعمال کرنا سکھایا جاتا ہے، ڈومیسائل کے مسئلے کو ٹوئٹر مہم کے ذریعے حل کیا گیا یہ سوشل میڈیا کی پاور ہے۔

قرت مرزانے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عورت مارچ میں لوگ نکلے ہیں اور بیانیہ یہی مارچ تبدیل کرے گا،ردعمل کی بات کریں تو جب آپ پتھر مارتے ہیں پانی میں تو لہریں بتاتی ہیں کہ پتھر کاوزن کتنا تھا ،منزل تو ابھی دور ہے، ہمارے لیے گالی اور تالی دونوں تمغہ ہیں۔

وومن کانفرنس میں تشدد اور ہراسانی پر سیشن میں امر سندھو، شیماکرمانی، نزہت شیریں، پروین رند نے عورتوں پر ہونے والے تشدد اور ہراساں کرنے سے متعلق اظہارِ کیا۔

اس موقع پر امبر سندھو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جو عورتیں اپنا گھر بچانے کے لیے تشدد سہتی ہیں وہ نہ خود کو بچاپاتی ہیں اور نہ اپنے گھر کو۔ عورت کسی نہ کسی طرح تشدد کا شکار ہے، ایف آئی آر درج ہونے سے مجرم کی نشاندہی ہورہی ہے مگر ملزمان کا فیصلہ آنے میں 10سال لگ جاتے ہیں۔

شیما کرمانی نے کہاکہ تشدد صرف جسمانی ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کی کئی اقسام ہیں جس میں عورت کو اجازت نہیں ملتی جو عورت کا حق ہونا چاہیے، ہمارے معاشرے میں سوشل دباﺅاور جو سسٹم ہے وہ ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم ان کے خلاف کھڑے ہوں۔





Previous articleRemittances are above $2bn in 21st month
Next articleMayo and Herbs Make a Delicious Two-Ingredient Sandwich Spread

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here