دو روزہ تیسری وومن کانفرنس کا رنگا رنگ آغاز

0


خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے آرٹس کونسل کراچی نے دو روزہ تیسری وومن کانفرنس کا آغاز ہو گيا، مقررين نے پاکستان میں طبقاتی فرق کاشکارہونے والی خواتین کی حالت زاربیان کی۔

آرٹس کونسل ميں منعقدہ خواتین کانفرنس کے آغاز ميں صحافت،ادب اورسماجی خدمت سے تعلق رکھنے والی خواتین نے پاکستانی عورت کی زندگی اورحالات کی بدحالی کے حوالے سے اپنے خیالات کااظہارکیا

اس موقع پر نور الہدیٰ شاہ کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں مزدور عورت کو اپنے جسم کے عزا بچنے پڑھ رہے ہیں ۔یہ سب جب ہوتا ہے جب فرد کو ریاست اپناتی نہیں ہے، ریاست کو خبر رکھنی چاہیے کہ کس کا گردہ کیوں بک گیا۔

زبیدہ مصطفی اورسلطانہ صدیقی نے خطاب ميں کہا کہ پاکستان کی نچلے طبقے کی عورت کواپنے حق کاپتاہی نہیں ہے

سلطانہ صدیقی نے کہا کہ مائنڈ سیٹ چینج کرنا بہت ضرور ی ہے ۔احساس كمتری نے ہمیں ایسا کرنے سے روکا ہے،عورت کی ترقی کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا ۔میں نے اکیلے تین بچوں کو پالا ۔ لڑکیوں کو تعلیم دیں تاکہ آپ کے گھر سے بھی نامور خواتین نکلیں۔

ممتازصحافی اوردانشورغازی صلاح الدین نے پاکستان ميں خواتين کے حالات ميں بہتري کے اقدامات پر زور ديا

غازی صلاح الدين نے کہا کہ ہم نے اپنی لڑکیوں کو ایسے پالا ہے کہ ہر فیصلے میں ہم ان کے ساتھ ہیں چاہے وہ غلط بھی ہوں ۔خواتین کی آزادی کو کوئی نہیں روک سکتا ۔سعودی عرب کی مثال سامنے ہے ۔ہمارے یہاں بھی تبدیلی آے گی۔

خواتین کانفرنس کے دوسرے روز کام کرنے والی خواتین کے مسائل،ہراساني ، خواتین پرتشدد اور انصاف کی فراہمی میں نظام انصاف کے کردارکے موضوع پرفکری نشستیں ہوں گی۔





Previous articleJUI-F workers stage sit-ins in different parts of country
Next articleFrom Introvert to IEEE Influencer

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here